مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ملک اس وقت مکمل اقتصادی جنگ میں ہے اور اللہ کے فضل سے حکومت اور انتظامی ادارے عوام، نجی شعبے سے وابستہ اقتصادی کارکنوں اور نظام کے تمام اداروں کی صلاحیتوں پر بھروسا کرتے ہوئے اس میدان میں بھی دشمن کو شکست دیں گے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج مختلف اور فیصلہ کن حالات میں حکومت کو اسلامی انقلاب کی بنیادوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عوام کے معاش، قوت خرید، نوجوانوں کے روزگار اور اقتصادی سلامتی کو ترجیح دینی چاہیے اور عوام کے کندھوں سے بوجھ کم کرنا چاہیے۔
قالیباف نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی کی جانب سے حکومت کی حمایت، اتحاد و یکجہتی اور نظام کے مختلف اداروں کے درمیان تعاون سے متعلق ہدایات مشکل حالات سے نکلنے کے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ حکومت کی حمایت کا مطلب اس کی کمزوریوں سے چشم پوشی کرنا نہیں بلکہ عوام کی بہتر خدمت کے لیے حکومت پر اعتماد کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں جب جنگ نے ملکی معیشت پر اثرات مرتب کیے ہیں اور دشمن نے ایرانی عوام پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں میدان میں اتار دی ہیں، انتظامی حکام نے ملک چلانے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں اور کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔
قالیباف نے تاکید کی کہ موجودہ حالات میں رہبر معظم انقلاب کی جانب سے اتحاد، قومی یکجہتی اور ذمہ داران پر اعتماد کی بار بار کی جانے والی تاکید پر عمل کرنا ملک کے حکام کے لیے چیلنجز سے نکلنے اور ایران اسلامی کا نام بلند کرنے کا سب سے اہم سہارا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت مکمل اقتصادی جنگ میں ہے اور اللہ کے فضل سے ہم دیکھیں گے کہ حکومت اور انتظامی ادارے عوام، نجی شعبے کے اقتصادی کارکنوں اور نظام کے تمام اداروں کی صلاحیتوں پر بھروسا کرتے ہوئے اس میدان میں بھی دشمن کو شکست دیں گے اور دشمن کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ ان شاء اللہ بہت جلد اس معاملے میں دشمن کی نفسیاتی کارروائیوں کی بے اعتباری بھی سامنے آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بھی خود کو حکومت کے ساتھ اور عوام کا خدمت گار سمجھتی ہے اور قانون سازی و نگرانی کی اپنی تمام صلاحیتوں کے ساتھ رکاوٹیں دور کرنے، قوانین میں اصلاحات اور عوام کے مطالبات کی پیروی کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
آپ کا تبصرہ